خود فناہی

خود فناہی

تحریر: مہرماہ ”میں ایک بار پھر اس کیفیت سے ہمکنار ہونے کی جستجولئے ہوئے ہوں۔ وہ ایک عجب کیف تھا، سرور تھا، لذت آشنائی شاید اسی کو کہا گیا ہے“۔  یہ بات کرتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات کے ساتھ رنگ بھی بدل رہا تھا۔ آواز کے اُتار چڑھاؤ اور لب و لہجے کے تغیر سے اس کی اندرونی حالت کی غمازی ہوتی تھی۔کبھی مایوسی کی گہرائی میں گری نظر آتی، کبھی طمانیت کی معراج پر دِکھتی۔ ایسی کیفیت میں اس کا چہرہ چہکتے ہوئے گلنار ہو جاتا۔  ”وہ کیفیت کیسے ہوئی؟ کوئی خواب دیکھا؟ کوئی دیومالائی مقام دیکھا؟ کسی طلسم کدے میں چلی گئیں ؟“۔ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔  ” میں ایک دوست اور دوستی کی بات کر رہی ہوں “۔یہ فقرہ کہتے ہوئے وہ کھوسی گئی اور ایک لمحے کے لیے خلاءمیں گھورنے لگی۔  ”دوست کوئی لڑکا تھا؟“۔میں نے اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا۔

ففتھ جنریشن....اورہیپی ریٹائرمنٹ جنرل باجوہ

ففتھ جنریشن....اورہیپی ریٹائرمنٹ جنرل باجوہ

ہم ففتھ جنریشن وار فیئر کے دورسے گزر رہے ہیں۔ یہ میڈیا کے ذریعے لڑی جانے والی جنگ ہے۔ اس کا سب سے بڑا ہتھیار افواہیں ہیں۔ وہ بیانیہ ہے جس کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا مگر اسے دورِ عصر کی سب سے معتبر سچائی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پانچویں نسل کی جنگ عالمی سطح سے سکڑتی اور سمٹتی ہوئی ملک اور معاشرے سے بھی آگے گھروں تک بھی آ پہنچی ہے۔ گھروں میں تو شایدپہلے سے کسی اور نام سے موجود تھی۔ ففھ جنریشن وار فیئر کو ہالو گرافک ٹیکنالوجی کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ ہوتا ہے چین کے شہر یویانگ کے لوگوں نے سمندر کے اوپر بادلوں میں قدیم شہر کو آباد دیکھا۔

خطرات بھرا مارچ....کمیشن کہانی

خطرات بھرا مارچ....کمیشن کہانی

تحریر: فضل حسین اعوان سیاسی حالات نے سلگنا تو عمران خان کے اقتدار میں آنے سے قبل شروع کردیا تھا۔ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو حالات کی ابتری نے معیشت کو جکڑنا شروع شروع کر دیا۔ آج عروج پر پہنچی ہوئی مہنگائی: بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتیں سیاسی عدم استحکام کا شاخسانہ ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی کا سیاسی استحکام میں مسلمہ کردار ہے۔چھوٹی سے چھوٹی پارٹی احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے سیاسی صورت حال کو اُلجھا دیتی ہے۔ بڑی پارٹی اگر ایسا کرے تو وہی کچھ ہو سکتا ہے جو آجکل پاکستان میں ہو رہا ہے۔

خونیں نہیں بے ضررلانگ مارچ

خونیں نہیں بے ضررلانگ مارچ

تحریر: فضل حسین اعوان   عمران خان آج28اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کر رہے ہیں۔14اگست 2014ء کو بھی لاہور سے ایک“دو دھاری“ لانگ مارچ  اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا۔ طاہر القادری اور عمران خان اس دن نواز شریف  حکومت کی لنکا ڈھانے نکلے تھے، اس دوران شہباز شریف حکومت نے لاہور کو کنٹینرز لگاکر سیل کر دیا تھا تاہم جیسے تیسے لاہور سے عمران، قادری قافلے وقفے وقفے سے روانہ ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب جلد تھک گئے اور وہاں اپنی قبر کھودنے کاا علان کیا اور واپسی کی راہ اختیار کی۔ عمران خان 126دن تک ڈٹے رہے  بالآخر اے پی ایس سانحہ کے وقوع پذیر ہونے پر اپنا دھرنا ختم کردیا، نواز شریف کی حکومت گرنے سے بچ گئی۔ عمران کاالزام تھا کہ 2013ء میں ان کو انتخابات میں ہروایا گیا ہے۔وہ چارحلقے کھولنے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

دورے دُوریاں الیکشن اور سلطانی

دورے دُوریاں الیکشن اور سلطانی

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ کبھی تو اتنی قربت کہ امریکہ پاکستان کے دفاع کے لیے اپنا بحری بیڑا بھیجنے کا اعلان کرتا ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت ہوتی ہے تو امریکہ اور پاکستان مل کر سوویت یونین کا افغانستان میں قبرستان بنا دیتے ہیں۔ سوویت یونین روس کی حد میں سمٹ جاتا ہے۔ ایک اور وار امریکہ پھر افغانستان میں طالبان کیخلاف خود لڑتا ہے۔ جس میں پاکستان اپنی سر زمین، کئی دفاعی تنصیبات اس کے حوالے کردیتا ہے۔ دوریوں کی بات کریں تو بھارت کی لگائی بجھائی، سازشوں، پراپیگنڈے سے متاثرہو کر امریکہ پاکستان کو سبق تک سکھانے کی دھمکیوں تک اتر آتا ہے۔

ہیڈلانی……ڈبل ایجنٹ

ہیڈلانی……ڈبل ایجنٹ

ممبئی حملوں میں چھ امریکی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ اس لیے بھی حملوں کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہتا ہے۔بادیئ النظر میں اس کے پاس ممبئی حملوں کے حوالے سے ہیڈلانی(بیک وقت دو ناموں "ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور سید داؤد گیلانی"کی شناخت رکھنے والا) کی صورت میں ایک مہرہ آگیا۔پہلے تواس کیساتھ امریکی سرکار کا ایک معاہدہ ہوا کہ اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی،

نسیم آہیر……اورآہیر پور

نسیم آہیر……اورآہیر پور

ملک نسیم احمد آہیر سے تعارف کا سبب  میرے کچھ کالم تھے۔وہ لاہور آتے تو ملاقات ہو جاتی۔ فون پر بات ہوتی رہتی۔ رابطوں میں بھی کبھی طویل وقفہ آجاتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر کتاب”ناکردہ گناہوں کا قیدی“ ریوائز کررہا تھا تواتفاق سے جبار مرزا صاحب کی کتاب "جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں "علامہ عبدالستار عاصم نے تبصرے کے لیے بھجوا دی۔اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کابھی ذکر تھا۔ جبار مرزا ڈاکٹر اے کیو خان کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔

ہیڈلانی……ساجد مجید اورممبئی حملے

ہیڈلانی……ساجد مجید اورممبئی حملے

بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں ان کو پڑھتے جائیں تو تاریخ کے کئی پَرت کھلتے جاتے ہیں ایسی ہی تحریر خبر کی صورت میں نظر سے گزری، اس خبر کا تعلق پندرہ سال قبل کے واقعہ سے ہے۔خبر کی دھول ڈیڑھ دہائی بعد بھی نہیں بیٹھی۔ کبھی تو یہ معاملہ طوفان کی مانند دنیا کے میڈیا پر چھا جاتا ہے، اس واقعہ میں ملوث کردار کہاں کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، کیسے کیسے ہیں اور کیا یہ اصل بھی ہیں؟؟؟۔ ان سمیت  اس واقعہ سے جڑے کئی سوال ہیں۔ پہلے خبر پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ یہ خبرواشنگٹن سے اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے

بادشاہ انار اور آج کے بدنیت حکمران

بادشاہ انار اور آج کے بدنیت حکمران

بادشاہ جنگل کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں باغ تھا۔ وہاں رُکا، مالی کو بلایا۔ کہا پیاس لگی ہے۔ مالی نے ایک انار توڑ کر نچوڑا۔ گلاس بھر گیا۔ بادشاہ نے پیا اور سوچا کیوں نہ باغ بادشاہ کی ملکیت میں لے لیا جائے اور آگے بڑھ گیا

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اہانت آمیز رویے  وہ جو نشانِ منزل تھے؟

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اہانت آمیز رویے وہ جو نشانِ منزل تھے؟

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے سینیئر ترین دو ججوں کی طرف سے ایک اور خط سامنے آیا ہے جس سے سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان تقسیم مزید واضح ہوتی نظر آرہی ہے۔

Loading…