اہم خبریں

لاہور میں بکرا واش سروس شروع

عید قربان سے قبل شہروں میں پارٹ ٹائم کاروبار شروع ہو جاتے ہیں۔ جگہ جگہ چارے کے سٹال لگے نظر آئیں گے سبز اور خشک ہر قسم کا چارہ گلی محلوں چوکوں چوراہوں میں بکنے لگتا ہے۔ گائیوں، بیلوں، بکری، بکروں کو سجانے سنوارنے کا سامان ٹل ٹلیاں ہار سنگھار کی فروخت شروع ہو جاتی ہے۔ اب کار سروس والوں نے بکرا واش کی سروس شروع کر دی ہے۔ بکری بکرے دنبے بھیڑ بھیڈو کو گرمی سے بچانے کے لیے نہلوانا ہے تو اس کا ریٹ کم ہے۔

سرف سے واش کرنے کے کچھ زیادہ پیسے ہیں۔ شیمپو کی کوالٹی پر منحصر ہے ، بہترین کوالٹی امپورٹڈ کا ریٹ ہائی ہے۔ کنڈیشنر کی صورت میں نرخ بالا نشیں ہو جاتے ہیں۔ شہروں، قصبات اور دیہات میں بکرے یعنی قربانی کے جانور قسطوں پر بھی ملتے ہیں۔ جدید دور ہے کچھ آئی ٹی ایکسپرٹ جانور ڈاؤن لوڈ کرنے کی تدبیریں بھی سوچ رہے ہیں۔ منڈیوں میں رضا کار صفائی کرنے والے اور والیاں بھی نظر آتی ہیں۔ یہ بھی بزنس پرسن ہیں۔ گوبر کی ”پاتھیاں“ اوپلے بناتے ہیں جو دیہات میں آجکل 5روپے کی ایک بکتی ہے۔ گاؤں میں اوپلے ایندھن کیلئے استعمال ہوتے ہیں جبکہ شہروں میں حقے کے شوقین حقے میں آگ کیلئے بروئے کار لاتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو امریکہ میں تلاش بسیار کے بعد کڑک چائےمل گئی

چائے میں پسند اپنی اپنی ،کڑک چائے کا مفہوم اور مطلب بھی اپنا اپنا ہے۔لمبا سفر کرنے والے ٹرک ڈرائیور تیز پتی بلکہ تیز ترین پتی اور کم میٹھے والی چائے کو کڑک چائے کہتے ہیں۔ یہ اتنی پتی ڈلواتے ہیں کہ اس چائے کا ڈبل ریٹ ہوتا ہے۔ یہی چائے عرف عام ہیں کڑک کہلاتی ہے لیکن کچھ ایسے شہزادے بھی ہیں جو آرڈر دیتے ہیں پتی پانی روک کے، دودھ میٹھا ٹھوک کے۔ان کی نظر میں یہی کڑک چائے ہوتی ہے۔ہماری ٹیم کے کھلاڑی ایسی ہی کڑک چائے پینے کے شوقین لگتے ہیں جنہوں نے ہوٹل انتظامیہ کو اس وقت وختہ ڈال دیا۔ جب چائے کا آرڈر سرو کیا گیا تو ان کے سامنے قہوہ رکھ دیا گیا۔کوئی اسے قہوہ کہتا ہے کوئی گرین ٹی کہتا ہے ۔

یورپ  مغرب اور برطانیہ میں اسی کو چائے کہا جاتا ہے۔ یہ بغیر میٹھے کے ہوتی ہے۔ہمارے ہاں اس کو چائے ہی نہیں سمجھا جاتا جس میں دودھ نہ ہو اور چینی نہ ہو۔ہمارے کھلاڑیوں کے سامنے گرین ٹی رکھی گئی وہ سر پکڑ کے بیٹھ گئے۔ ضد کرنے لگے ہم تو دودھ پتی ہی پئیں گے۔"میں تے ہونڈا ای لیساں"۔ ہوٹل انتظامیہ نے بہرحال دودھ پتی کا کسی چھوٹے موٹے ڈھابہ ٹائپ ریسٹورنٹ سے بندوبست کروا ہی دیا جس پر ہمارے ہونہار کھلاڑی کانوں تک راضی ہو گئے۔ان کی کارکردگی دیکھ کر تو لگتا ہےکھانے میں  سری پائے اور کولڈ ڈرنک کی جگہ لسی پیتے ہونگے ۔گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہوئے سوٹے بھی لگا کر گئے ہوں۔ان چیزوں کا نشہ جادو کے سر چڑھنے کی طرح بولتا ہے۔نشئی کا بدن بیٹنگ کر رہا ہو باؤلنگ کر رہا ہو یا فیلڈنگ، بید مجنوں کی طرح لرزتا یعنی ڈولتا ہے۔

پہلے امریکہ سے پھر انڈیا سے ہارے تو،توئے لعنت اور تبرے  نے نشہ ہرن کر دیا۔اگلے میچ میں لگا کہ ڈرائیوروں والی کڑک چائے پی کے کھیلے ہیں۔ شروع میں ایسی کڑک چائے پلا دی جاتی ہے تو کارکردگی بہتر ہوتی۔دہی لسی روٹی اچار دیسی خوراکیں ہیں۔ ولایت گئے ہیں تو ولایتی کھانے کھائیں۔اگر وہ پسند نہیں تو دیسی چیزیں پوٹلیوں میں باندھ کر ساتھ لے جائیں۔خالص دودھ پتی پینی ہے تو بھینس وہیں سے خرید فرمائیں۔ایسے بخت مارے  کبھی کبھی پاکستانیوں کو بھارت کی جیت کے لیے دعائیں کرنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں کہ بھارت فلاں ٹیم سے جیتے تو ہم اگلے مرحلے میں جا سکتے ہیں۔

توانائی بچاؤ مہم بجٹ میں آٹھ کروڑ 80 لاکھ پرانے پنکھے تبدیل کرنے کا فیصلہ

ماضی قریب کی کسی حکومت نے بجلی کی بچت کے لیے بلب بھی تبدیل کرانے کی مہم شروع کی تھی۔ نئے ایل ای ڈی بلب  کہاں کہاں روشنی پھیلا کر فیوز ہو گئے کچھ پتہ نہیں ۔بلب سکیم کا انجام دو روپے کی روٹی جیسا ہوا ۔ اب حکومت کی طرف سے 1500 روپے میں ایک پنکھا ان صارفین کو دیا جائے گا جن کے گھروں میں پرانے پنکھے لگے ہوئے ہیں اور وہ زیادہ بجلی کھینچتے ہیں ۔جن کا بل صارفین جیسے تیسے ادا کر رہے ہیں۔ اب ان کے لیے ایک سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔

نیا پنکھا صرف 1500 روپے میں، کباڑ میں پرانا پنکھا کاپر تار کی وجہ سے اتنے میں ہی بکے گا۔ پنکھا چلانے کے لیے بجلی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت چھوٹی سی  سلیٹ جتنی سولر پلیٹ بھی مہیا کر دے ورنہ جس قدر لوڈ شیڈنگ ہے ہو سکتا ہے پنکھا اب جھومتا اور سردیوں میں گھومتا نظر آئے ۔گرمیوں کے لیے حکومت دستی پنکھے فراہم کر سکتی ہے۔ایسا پنکھا گاؤں سے آئی ایک خاتون نے شہر سے خریدا۔

تھوڑی دیر بعد اس نے آ کے دکاندار سے شکایت کی کہ یہ تو ایک دو دفعہ  جھلنے سے ٹوٹ گیا۔دکاندار نے پوچھا پنکھا آپ نے جھلایا کیسے تھا، جیسے پنکھا جھلتے ہیں ویسے۔خاتون نے بتا دیا۔ دکاندار نے کہا نہیں بی بی نہیں آپ نے پنکھے کا غلط استعمال کیا ۔ آپ نے پنکھا سامنے ساکت رکھ کے اپنے چہرے کو دائیں بائیں کرنا تھا ایسا کیا ہوتاتو پنکھا نہ ٹوٹتا۔

مذاکرات کا دوسرا دور مکمل، پیپلز پارٹی کے شکوے نون لیگ کی تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا تو پیپلز پارٹی روٹھی روٹھی نظر آئی ۔ان کو منانے کے لیے ڈپٹی وزیراعظم کو جانا پڑا،پیپلز پارٹی اتنی بھی نہیں روٹھی تھی کہ اجلاس کا دل و جان سے بائیکاٹ کر دیتی۔اجلاس سے دور رہنا ہوتا تو اس کے ارکان ایوان کے ارد گرد گھوم نہ رہے ہوتے جن کو اسحاق ڈار گھیر گھار کر ایوان میں لانے میں کامیاب  ہوگئے۔وہی مشق پیپلز پارٹی کی طرف سے پنجاب میں بھی دہرائی گئی۔اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں خوب ہلا گلا کیا تھا ۔پنجاب اسمبلی میں صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچ گئی اور کٹ کٹا پے کی نوبت آیا ہی چاہتی تھی۔پیپلز پارٹی اس کی زد میں آ سکتی تھی لیکن اپنی تیوری چڑھانے والی ناراضی کی وجہ سے بال بال بچ گئی۔

شہباز شریف وزیراعظم بنے تو ان کو ہر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آ رہی تھی کہ پرانے اتحادی ہیں پرانا اعتماد ہے پرانا پیار ہے اگلے پانچ سال مل جل کے پورے کرلیں گے لیکن اب منانے کے جھنجٹ میں پڑے ہوئے ہیں۔ بجٹ کے  مواقع پر پی پی پی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئی ۔اسحاق ڈار پی پی کے چند ارکان کو اجلاس میں لانے میں کامیاب ہو گئے یہ پیپلز پارٹی کی طرف سے  اجلاس میں علامتی شرکت تھی جب کہ ایک روز قبل اس پارٹی کا ملامتی رویہ  یعنی حکومت کو ملامت کرنے کا، جس کا خود اٹوٹ حصہ ہیں، سامنے آ چکا تھا۔اب جشن مناؤ  کی طرز پریہ " اتحادی مناؤ حکومت" بن چکی ہے. مولانا فضل الرحمن پرانے اتحادی ہیں شہباز شریف بجٹ منظور کروانے کے لیے ان کو منانے ان کے در دولت پر حاضری دے رہے ہیں.

پیپلز پارٹی کا اچانک سے عین بجٹ کے موقع پر روٹھ جانا کچھ لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔یہ پیپلز پارٹی ہی تھی جس نے مسلم لیگ نون سے کہا تھا قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں، بالکل نہ گھبراؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔وزارتیں آپس میں بانٹیں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ہمیں کوئی وزارت نہیں چاہیے ہم تمہارے ساتھ ہیں،حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔دو گورنر بنوا لئے، زرداری صاحب ایوان صدر کے مکین ہو گئے  کئی پارلیمانی کمیٹیوں پر ہاتھ صاف کر لئے پھر بھی کہا جاتا ہے حکومت میں شامل نہیں۔

قاضی فائز عیسی کا حسن کرشمہ ساز لاہور ہائی کورٹ کے سب سے سینیئر جج کو جونیئر بنا دیا....جسٹس ملک شہزاد کا یادگار خطاب جس نے سب کو لرزا کے ہلا کے گھما کے رکھ دیا

یہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کا حسن کرشمہ شاز  ہے کہ وہ جو چاہیں کر دیں کیونکہ آج کل ان کے پاؤں کے تلے بٹیرا آیا ہوا ہے وہ چیف جسٹس پاکستان ہیں پوری طاقت کے ساتھ اپنی اس طاقت کو جائز اور ناجائز طریقے سے ائینی اور غیر آئینی طور پر استعمال کر رہے ہیں قاضی فائز صاحب سب سے بڑے سینیئر موسٹ جج کو سپریم کورٹ لانے کے وکیل رہے ہیں لیکن اب جب خود چیف جسٹس بنے تو ان کو اپنے 100 میٹر کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے سب سے سینیئر جج جسٹس عامر فاروق نظر نہیں آئے ۔ان کی نظر پڑی تو کراچی کے چیف جسٹس پر، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شہزاد ملک پر اور لاہور ہائی کورٹ ہی کے جسٹس شجاعت پر ان کو قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ لے گئے۔ سنیارٹی کی بات کرنے والے چیف جسٹس کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریٹائرمنٹ کی مدت کو پہنچ گئے وہ بھی ان کو نظر نہیں آئے تھے۔


لاہور ہائی کورٹ کے سب سے سینیئر جج کو قاضی  نے سپریم کورٹ لے جا کر سب سے جونیئر جج بنا دیا ایسا ہی ہونا تھا۔لیکن ان کو سپریم کورٹ لے جانے کی وجہ ان کو ترقی دینا اور ان کی مدت ملازمت میں تین سال کا اضافہ نہیں ہے بلکہ ان سے جان چھڑانا مقصود تھا کہ وہ دلیرانہ جرات مندانہ آئین اور قانون کے مطابق بغیر بلیک میلنگ میں آئے بغیر جھکے بغیر دباؤ قبول کیے فیصلے کر رہے تھے۔قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو اس وقت کوئلوں پر لوٹتا ہوا محسوس کیا جب جسٹس ملک شہزاد خان گھیبہ کی طرف سے آٹھ ٹربیونل بنانے کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا گیا الیکشن کمیشن اس کی مخالفت کر رہا تھا الیکشن کمیشن دوڑا دوڑا قاضی فائز عیسیٰ  کے پاس گیا اور قاضی صاحب نے ایک منٹ کی تاخیر نہیں کی 20 جون کے لیے یہ کیس لگا دیا اور پھر ملک شہزاد کی طرف سے سرگودھا کے جج کی بات بھی سنی گئی تھی نہ صرف ان کی بات سنی گئی بلکہ انہوں نے جو رپورٹ بھیجی تھی کہ ان کو کس طرح سے یرغمال بنایا گیا ان سے فیصلہ اپنی مرضی کا لینے کی کوشش کی گئی اس پر شہزاد ملک نے آئی جی اور ڈی پی او سرگودھا کو طلب کر لیا تھا۔ ان کی سرزنش کی تھی اور پھر ان کی طرف سے ایک تقریر کی گئی راولپنڈی بار میں اس کی بھی شدید تکلیف محسوس ہوئی ۔پاؤں جلنے لگے سر بوجھل ہونے لگا طبیعت خراب ہو گئی۔ افاقہ اسی اسی میں نظر آنے لگا کہ شہزاد ملک کو فوری طور پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب سے ہٹا دیا جائے۔
 پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس عید کے بعد ہونا تھا ان کو فوری طور پر بیٹھنے کو کہا گیا پارلیمانی کمیٹی نے جمعہ کے روز اجلاس منعقد کیا اور تینوں ججوں کی سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی۔ اب جسٹس شہزاد ملک سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں ۔لاہور میں تھے تو سب سے سینیئر جج تھے سپریم کورٹ جا رہے ہیں تو سب سے جونیئر جج ہوں گے۔
جس طرح کے فیصلے ان کی طرف سے یہاں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے ہوئے کیے گئے ان کا تسلسل کیا وہاں پہ نظر آئے گا؟؟؟ بالکل نظر آئے گا لیکن قاضی  صاحب جب تک چیف جسٹس ہیں اس وقت تک ان کو وہ  بالکل نظر آئے گا لیکن قاضی فائز صاحب جب تک چیف جسٹس ہیں اس وقت تک ان کو کیس نہیں دیں گے جس سے سیاسی طور پر قاضی  صاحب کی نفرت کی زد میں آئے ہوئے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر قاضی فائز عیسیٰ  جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس کا زیادہ حصہ انصاف کی کار فرمائی عملداری نہیں ہے بلکہ انصاف کا خون کر دینے کے مترادف ہے۔ ادھر جیسے ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے ٹربیونلز کا معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھا گیا قاضی فائز نے چار دن کے بعد سماعت کی ڈیٹ مقرر کر دی چار دن اس لیے دیئے گئے کہ درمیان میں چھٹیاں آگئی تھیں ورنہ تو قاضی صاحب اگلے روز ہی کیس مقرر کر تے اور سٹے آرڈر دے کر الیکشن کمیشن کو خوش کر دیتے۔اب آ جاتے ہیں شہزاد ملک کی تقریر کی طرف جس نے پوری دنیا میں شہرت پائی پاکستان کی سیاست کئی سیاست دانوں اور ان کے پشت پناہوں کو لرزا کے، ہلا کے اور گھما کے رکھ دیا۔


چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جو اب سپریم کورٹ جا چکے ہیں ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ امید ہے اسٹیبلشمنٹ کی جوڈیشری میں دخل اندازی جلد ختم ہوجائے گی۔ اللہ کا خوف رکھنے والے کسی سے بلیک میل نہیں ہوتے۔ ججز کسی سے بلیک میل نہ ہوں۔ ہماری جوڈیشری بغیر کسی ڈر خوف اور لالچ کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔ راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس میں اے ڈی آر اور ای کورٹ کے افتتاح کے موقع پر چیف انہوں  نے مزید کہا کہ ججز پر دباؤ کے حوالے سے شکایات آرہی ہیں۔ مولوی تمیزالدین کیس میں اسٹیبلشمنٹ کی جوڈیشری میں مداخلت شروع ہوئی۔ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی جوڈیشری میں مداخلت کے حوالے سے ججز کے خطوط آتے ہیں۔ ہم انصاف کی فراہمی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ 13 مارچ 2007ء  میں عدالتی نظام کی بحالی کے لئے  اکیلا گھر سے نکلا تھا۔ سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار نے ایک ڈکٹیٹر کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ سول حکومت جیسی بھی ہے مگر مارشل لاء  کا راستہ رک چکا ہے۔ مارشل لاء  کا راستہ روکنے میں وکلاء  کی جدوجہد کا اہم کردار ہے۔ ملک شہزاد گہبا نے پرویز مشرف کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مارشلہ کی لعنت کا پاکستان سے جسٹس افتخار محمد چودری کی جدوجہد کی وجہ سے خاتمہ ہو چکا ہے۔اب کسی میں جرات نہیں کہ وہ پاکستان میں مارشل لا لگا سکے۔اج پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین سول دور ہے پہلے ادوار میں چند سال کے بعد مارشل لگ جاتا تھا لیکن اب 2008 کے بعد جیسی بھی ہے سول حکومت چل رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا ایمان اور تجربہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت جلد ختم ہوگی۔ملک شہزاد کی طرف سے جو کچھ کہا گیا یہ شاید کوڈ اف کنڈکٹ کی خلاف ورزی میں ا جاتا لیکن اب نہیں اس سکتا کیونکہ ایسی ہی باتیں بلکہ اس سے بھی سخت موقف کا اظہار شوکت عزیز صدیقی اسلام اباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سب سے سینیئر جج کی طرف سے اختیار کیا گیا تھا انہوں نے بھی اسی بار میں کتاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کس طرح سے ائی ایس ائی کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا کس طرح سے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے کہا گیا ان کو اس وقت کی سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے سیک کر دیا گیا تھا لیکن قاضی فائزہ کی سربراہی میں اج کی سپریم کورٹ نے ان کی ساری خطائیں معاف کر دیں تو جو کچھ ملک شہزاد کی طرف سے اج کہا گیا ہے وہ اس سے بہت کم ہے اس لیے کسی قسم کا ان کو خطرہ نہیں ہے گو کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی باتیں ہو رہی ہیں یہ ریفرنس بھیجا گیا تو قاضی  کی جب جبلت کے عین مطابق ہوگا اور وہ اسی طرح سے شہزاد ملک کے خلاف نوٹس لے سکتے ہیں جس طرح مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف لیا گیا تھا۔

ٹویٹ اور فوج کیخلاف بیانیہ

(گزشتہ سے پیوستہ )
ایک نظر ڈاکو منٹری کے متن پر ڈالتے ہیں جو عمران خان کے ٹویٹ میں جاری کی گئی۔ 
"مقتدرہ نے ہمیشہ شیخ مجیب کو غدار بنا کر پیش کیا۔لیکن ملک توڑنے کے اصل ذمہ دار فوجی حکمران جنرل یحییٰ اور اس کے حواریوں کا کبھی ذکر نہیں تک نہیں کیا۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ جنرل یحییٰ اور شیخ مجیب الرحمن میں سے اصل غدار کون تھا؟


شیخ مجیب اکثریتی پاکستان کا منتخب نمائندہ تھا جنرل یحییٰ پاکستانیوں کے حقوق کا غاصب تھا۔
شیخ مجیب پاکستان ہی میں رہنے کا خواہش مند تھا.جنرل یحییٰ کی مشرقی پاکستان کو بچانے کی کوئی نیت نہ تھی شیخ مجیب نے جمہوری اصولوں کے عین مطابق اکثریتی جماعت کو اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کیا، جنرل یحییٰ کا کرسی بچانے کے لیے اقتدار کی منتقلی کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ شیخ مجیب کو بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔ جنرل یحییٰ نے اپنے ہی بھائیوں پر بدترین کریک ڈاؤن اور خون ریزی کی۔شیخ مجیب کو سویلین ہوتے ہوئے ملٹری کورٹ سے سزا دلوائی گئی۔جنرل یحییٰ اس وقت بھی  داد عیش دیتا رہاجبکہ مشرقی پاکستان ڈوبتا رہا۔حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں پاکستان کے دولخت ہونے کا ذمہ دار جرنیلوں کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بد نام زمانہ اپریشن سرچ لائٹ کا ذکر ہے جس کے مطابق اس وقت کی عسکری قیادت نے مشرقی پاکستان میں بغاوت کو  روکنے کا بہانہ بنا کر ایسٹ بنگال رجمنٹ کے افسران،بزنس مین اینڈ انڈسٹریلسٹس اور ہندو اقلیت کا قتل کیا۔بہت بڑی تعداد میں  بنگالی عورتوں کا ریپ کیا گیا اور سب کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا۔  یہ سلسلہ اپریشن کے آغاز سے جنگ کے اختتام تک جاری رہا ۔جو عسکری قیادت اپنے ہی عوام سے لڑنے میں مصروف تھی وہ دشمن کا کیا مقابلہ کرتی ۔محض دو ہفتے میں جنرل نیازی نے بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔شکست کی ذلت آمیز دستاویز پر دستخط کیے جو آج تک پاکستان پر سیاہ دھبہ ہے۔کمیشن رپورٹ میں پاک فوج کی سینیئر قیادت کی ناقص حکمت عملی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داران کے کورٹ مارشل کا بھی مطالبہ کیا گیا جبکہ مقتدرہ نے ہمیشہ شیخ مجیب کو غدار ثابت کرنے کی کوشش کی ۔آخر اس کا قصور کیا تھا؟کیا پاکستان کے عوام نے اسے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیاب نہیں کرایا تھا؟کیا جمہوری  اصولوں کے مطابق اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ ۔اگر ان باتوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ جس شیخ مجیب کو غدار ثابت کیا گیا ہے کیا واقعی وہ اس لقب کا حقدار تھا۔یا اس کا حقدار جنرل یحییٰ تھا؟ ۔ آج پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کی تاریخ دہرائی جا رہی ہےجو  1971ءکے ملک توڑنے کے ذہن کی عکاس ہے"۔

شیخ مجیب الرحمان کے پاکستان کی جیل میں گزرے دن اور انار خان - BBC News اردو
یہ تھا ڈاکومنٹری کا متن جو عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس پیغام کے ساتھ جاری کی گئی کہ قوم اس ڈاکومنٹری کو دیکھے کہ مشرقی پاکستان توڑنے کا ذمہ دار یحیی خان تھا یا شیخ مجیب الرحمن تھا۔
آرمی چیف کا نام لئے بغیر ان کو تضحیک آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے انہیں سیاست میں صریحاً مداخلت کا موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ اس سے افواج کے اندر بے چینی جنم لے سکتی ہے۔آرمی چیف کا نام نہیں لیا گیا مگر ان کی تصویر لگا دی گئی ہے۔ یہ سارا کچھ عمران خان نے اپنی زبان سے نہیں کہا مگر  یہ ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اب بھی موجود ہے۔
 ایک ایسے شخص سے یہ کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی جو پاکستان کا وزیراعظم رہا ہو اور آئندہ بھی اس کے وزیراعظم بننے کا امکان موجود ہو۔

پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہو سکتا ہے؟
 جاوید ہاشمی جنہوں نے عمران خان کا ساتھ دھرنے کے عروج پر چھوڑا وہ اب خان صاحب کی حمایت میں سرگرم ہیں۔ وہ کہتے ہیں ڈاکو منٹری میں جو کچھ کہا گیا میں اسے قبول کرتا ہوں۔ مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی، اختر مینگل،ایمل  ولی خان کی طرح جاوید ہاشمی بھی فوج پر غصہ نکالتے رہتے ہیں۔
عمران اور مذکورہ بالا دیگران ہی نہیں اور بھی بڑے سیاستدان فوج پر منفی تبصرے کرتے رہے ہیں۔ الطاف حسین نے تو بھارت سے فوج کے خلاف مدد بھی مانگ لی تھی۔ میاں نواز شریف جلسہ عام میں جرنیلوں کو مخاطب کر کے حساب چکانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ خواجہ آصف کی طرح حدیں کسی سیاستدان نے عبور نہیں کیں۔ خواجہ صاحب دوسری تیسری مرتبہ وزیر دفاع لگا دیئے گئے۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی۔
ماضی میں افواج کے خلاف نفرت پھیلانے والے کردار محفوظ رہے۔ ان کو آرمی ایکٹ اور سیکرٹ ایکٹ کے دائرے میں لایا جاتا  تو افواج کے خلاف بیانیے کی بیخ کنی ہو چکی ہوتی مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر ماضی میں کسی کو نہیں پوچھا گیا تو حال اور مستقبل میں اس سلسلے کی حوصلہ فزائی کی جائے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیل میں بیٹھ کر بھی عمران خان اپنا ٹویٹر چلا رہے ہیں۔ یہ ٹویٹ انہوں نے خود کیایا ان کی مرضی سے کیا گیا اور ڈاکومنٹری لگائی گئی ہےتوخان صاحب سے حساب لیا جانا چاہیے۔ جرم جرم ہوتا ہے۔ مجرم کے خلاف کارروائی میں تاخیر سے جرم کی شدت کم نہیں ہو جاتی۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ رضوان کو ان کی سروس کے دوران غداری کی  سزا(سزائے موت )ریٹائرمنٹ کے بعد جرم سامنے آنے اور ثابت ہونے پر دی گئی تھی۔جس نے جب بھی فوج کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کی وہ احتساب کا مستوجب ہے۔

ٹویٹ اور فوج کیخلاف بیانیہ

(گزشتہ سے پیوستہ )
ایک نظر ڈاکو منٹری کے متن پر ڈالتے ہیں جو عمران خان کے ٹویٹ میں جاری کی گئی۔ 
"مقتدرہ نے ہمیشہ شیخ مجیب کو غدار بنا کر پیش کیا۔لیکن ملک توڑنے کے اصل ذمہ دار فوجی حکمران جنرل یحییٰ اور اس کے حواریوں کا کبھی ذکر نہیں تک نہیں کیا۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ جنرل یحییٰ اور شیخ مجیب الرحمن میں سے اصل غدار کون تھا؟

عمران خان کی مذاکرات کی آفر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے منہ پھیر لیا -  Pakistan - AAJ
شیخ مجیب اکثریتی پاکستان کا منتخب نمائندہ تھا جنرل یحییٰ پاکستانیوں کے حقوق کا غاصب تھا۔
شیخ مجیب پاکستان ہی میں رہنے کا خواہش مند تھا.جنرل یحییٰ کی مشرقی پاکستان کو بچانے کی کوئی نیت نہ تھی شیخ مجیب نے جمہوری اصولوں کے عین مطابق اکثریتی جماعت کو اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کیا، جنرل یحییٰ کا کرسی بچانے کے لیے اقتدار کی منتقلی کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ شیخ مجیب کو بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔ جنرل یحییٰ نے اپنے ہی بھائیوں پر بدترین کریک ڈاؤن اور خون ریزی کی۔شیخ مجیب کو سویلین ہوتے ہوئے ملٹری کورٹ سے سزا دلوائی گئی۔جنرل یحییٰ اس وقت بھی  داد عیش دیتا رہاجبکہ مشرقی پاکستان ڈوبتا رہا۔حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں پاکستان کے دولخت ہونے کا ذمہ دار جرنیلوں کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بد نام زمانہ اپریشن سرچ لائٹ کا ذکر ہے جس کے مطابق اس وقت کی عسکری قیادت نے مشرقی پاکستان میں بغاوت کو  روکنے کا بہانہ بنا کر ایسٹ بنگال رجمنٹ کے افسران،بزنس مین اینڈ انڈسٹریلسٹس اور ہندو اقلیت کا قتل کیا۔بہت بڑی تعداد میں  بنگالی عورتوں کا ریپ کیا گیا اور سب کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا۔  یہ سلسلہ اپریشن کے آغاز سے جنگ کے اختتام تک جاری رہا ۔جو عسکری قیادت اپنے ہی عوام سے لڑنے میں مصروف تھی وہ دشمن کا کیا مقابلہ کرتی ۔محض دو ہفتے میں جنرل نیازی نے بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔شکست کی ذلت آمیز دستاویز پر دستخط کیے جو آج تک پاکستان پر سیاہ دھبہ ہے۔کمیشن رپورٹ میں پاک فوج کی سینیئر قیادت کی ناقص حکمت عملی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داران کے کورٹ مارشل کا بھی مطالبہ کیا گیا جبکہ مقتدرہ نے ہمیشہ شیخ مجیب کو غدار ثابت کرنے کی کوشش کی ۔آخر اس کا قصور کیا تھا؟کیا پاکستان کے عوام نے اسے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیاب نہیں کرایا تھا؟کیا جمہوری  اصولوں کے مطابق اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ ۔اگر ان باتوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ جس شیخ مجیب کو غدار ثابت کیا گیا ہے کیا واقعی وہ اس لقب کا حقدار تھا۔یا اس کا حقدار جنرل یحییٰ تھا؟ ۔ آج پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کی تاریخ دہرائی جا رہی ہےجو  1971ءکے ملک توڑنے کے ذہن کی عکاس ہے"۔

شیخ مجیب الرحمان کے پاکستان کی جیل میں گزرے دن اور انار خان - BBC News اردو
یہ تھا ڈاکومنٹری کا متن جو عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس پیغام کے ساتھ جاری کی گئی کہ قوم اس ڈاکومنٹری کو دیکھے کہ مشرقی پاکستان توڑنے کا ذمہ دار یحیی خان تھا یا شیخ مجیب الرحمن تھا۔
آرمی چیف کا نام لئے بغیر ان کو تضحیک آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے انہیں سیاست میں صریحاً مداخلت کا موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ اس سے افواج کے اندر بے چینی جنم لے سکتی ہے۔آرمی چیف کا نام نہیں لیا گیا مگر ان کی تصویر لگا دی گئی ہے۔ یہ سارا کچھ عمران خان نے اپنی زبان سے نہیں کہا مگر  یہ ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اب بھی موجود ہے۔
 ایک ایسے شخص سے یہ کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی جو پاکستان کا وزیراعظم رہا ہو اور آئندہ بھی اس کے وزیراعظم بننے کا امکان موجود ہو۔

پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہو سکتا ہے؟
 جاوید ہاشمی جنہوں نے عمران خان کا ساتھ دھرنے کے عروج پر چھوڑا وہ اب خان صاحب کی حمایت میں سرگرم ہیں۔ وہ کہتے ہیں ڈاکو منٹری میں جو کچھ کہا گیا میں اسے قبول کرتا ہوں۔ مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی، اختر مینگل،ایمل  ولی خان کی طرح جاوید ہاشمی بھی فوج پر غصہ نکالتے رہتے ہیں۔
عمران اور مذکورہ بالا دیگران ہی نہیں اور بھی بڑے سیاستدان فوج پر منفی تبصرے کرتے رہے ہیں۔ الطاف حسین نے تو بھارت سے فوج کے خلاف مدد بھی مانگ لی تھی۔ میاں نواز شریف جلسہ عام میں جرنیلوں کو مخاطب کر کے حساب چکانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ خواجہ آصف کی طرح حدیں کسی سیاستدان نے عبور نہیں کیں۔ خواجہ صاحب دوسری تیسری مرتبہ وزیر دفاع لگا دیئے گئے۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی۔
ماضی میں افواج کے خلاف نفرت پھیلانے والے کردار محفوظ رہے۔ ان کو آرمی ایکٹ اور سیکرٹ ایکٹ کے دائرے میں لایا جاتا  تو افواج کے خلاف بیانیے کی بیخ کنی ہو چکی ہوتی مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر ماضی میں کسی کو نہیں پوچھا گیا تو حال اور مستقبل میں اس سلسلے کی حوصلہ فزائی کی جائے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیل میں بیٹھ کر بھی عمران خان اپنا ٹویٹر چلا رہے ہیں۔ یہ ٹویٹ انہوں نے خود کیایا ان کی مرضی سے کیا گیا اور ڈاکومنٹری لگائی گئی ہےتوخان صاحب سے حساب لیا جانا چاہیے۔ جرم جرم ہوتا ہے۔ مجرم کے خلاف کارروائی میں تاخیر سے جرم کی شدت کم نہیں ہو جاتی۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ رضوان کو ان کی سروس کے دوران غداری کی  سزا(سزائے موت )ریٹائرمنٹ کے بعد جرم سامنے آنے اور ثابت ہونے پر دی گئی تھی۔جس نے جب بھی فوج کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کی وہ احتساب کا مستوجب ہے۔

کراچی میں 15 کروڑ روپے کے جعلی اور غیر قانونی سگریٹ نذر آتش

چرس ہیروئن افیون شراب پکڑی جانے پر جلا دی جاتی ہے یا تلف کر دی جاتی ہے۔ سگریٹ جعلی پکڑے جائیں ان کو نذرآتش کر دیا جائے، یہ پہلی مرتبہ سنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بھرے ہوئے سگریٹ ہوں۔ جعلی سگریٹ کیسے بنے ہوں گے ؟ تمباکو کی بجائے کس چیز کا برادہ کاغذ میں لپیٹ دیا گیا ہوگا۔ یہ برادہ ہوگا یا بارود ہوگا اور پھر غیر قانونی سگریٹ کیسے بنتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بڑے برانڈ کی نقل کر لی جاتی ہو۔

جعلی اور غیر قانونی سگریٹوں کے لیے کاغذ کی بجائے سستے ٹشو استعمال کیے جاتے ہیں؟ یقینی طور پر جعلی اور غیر قانونی سگریٹ ہر لحاظ سے غیر معیاری ہی ہوتے ہیں ۔اس کے دھوئیں سے مرغولے بھی نہیں بنتے ہوں گے۔ کش لے کر سگریٹ نوش دھواں منہ اور ناک سے نکالتا ہے جو سگریٹ غیر قانونی اور جعلی ثابت ہوئے ہیں ۔اس کا سوٹا لگانے سے کیا دھواں کانوں سے نکلتا ہے۔ایک دوست نے دوسرے سے کہا یار تو 10 سال سے سگریٹ نوشی کر رہا ہے۔ روزانہ ایک ڈبی بھی پئے تو اب تک تو پانچ لاکھ روپے پھونک چکا ہے۔نصیحت کرنے والے دوست سے دوسرے  دوست نے اگلے دن اس کے گھر جا کر 10 ہزار روپے ادھار مانگے تو اس نے کہا میرے پاس کہاں سے 10 ہزار روپے آئے ۔جس پر ادھار مانگ لینے والے نے کہا کہ یارتو نے جو سیگرٹ نہ پی کر پانچ لاکھ روپے بچائے تھے ان میں سے مجھے صرف 10 ہزار روپے دے دو۔

جون اہم، اگلے 45 دن بھی اہم ہیں، شیخ رشید

کچھ دنوں سے شیخ رشید اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کی طرح خاموش تھے ۔ عدالتوں میں پیشیوں پر آتے رہے ۔صحافی سوال کرتے تو کہتے فی الحال کچھ بھی نہیں کہنا۔میرا چپ کا روزہ ہے۔ شیخ صاحب اب پاکستان کے ایسے گوروؤں میں شامل ہو گئے ہیں جن کی زندگی دھوپ چھاؤں بادلوں، بگولوں اور برسات جیسی ہوتی ہے۔شیچ جی ایسے  درویش بھی نہیں جن کا  کہیں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا۔

شیخ صاحب کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ کب جیل میں ہوتے ہیں کب باہر آ جاتے ہیں۔ سیاسی پیشگوئیاں کرنا مرغوب مشغلہ ہے ۔10 بار ہ میں سے دو چار ویسے ہی پوری ہو جاتی ہیں۔ اسی پر پھر اتراتے رہتے ہیں کہ دیکھا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ دو پارٹیوں میں سے ایک جیتے گی، ایک ہار جائے گی۔ قربانی کی بات کیا کرتے تھے کہ عید سے قبل فلاں کی قربانی ہو جائے گی ۔اب پھر بقر عید آ رہی ہے اور جون  میں ہی آرہی ہے۔خود کو پیر پگارا کی طرح جی ایچ کیو کے قریب باورکراتے رہے ۔

ایسے لوگ  سیاسی سرد گرم سے محفوظ رہتے ہیں مگر شیخ صاحب کے کڑاکے نکلتے دیکھے گئے۔ گھر سے دکان پر دودھ لینے گئے تو چلّہ لگا کر واپس آئے ۔حکومت بنانے چلانے الٹانے کی پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں مگر اپنی سیٹ  کی پیش گوئی کر سکے نہ بچا سکے۔ کسی اور نے آٹھ فروری کے نتائج تسلیم کیے یا نہیں کیے، شیخ صاحب نے بڑی متانت اور انکساری سے  سر تسلیم خم کرتے ہوئے مان لئے ۔جس طرح سے منصوبہ بندی کرتے ہیں کچھ مخالفین دل جلے انہیں شیخ چلی بھی کہہ دیتے ہیں مگر وہ خود کو چلہ لگانے کے بعد شیخ چلہ ثابت کر چکے ہیں۔

عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ اسد قیصر

تحریک چلانے کی ضرورت کیا ہے حکومت نے کیا کہا اور ایسا کیا کر دیا کہ دو تین ماہ بھی نہیں ہوئے کہ تحریک چلانے کا ڈراوا دے دیا ہے۔ اسد قیصر  پہلے بھی تحریک چلانے کا بیان دے چکے ہیں مگر اس بیان میں زیادہ جوش و جذبہ نہیں تھا اب ان کے بیان میں ایک انرجی اور ولولہ انگیزی نظر آتی ہے ۔وہ کہتے ہیں مولانا فضل الرحمن بھی تحریک میں شامل ہوں گے۔

عید کے بعد جو تحریک چلانی ہے وہ ابھی کیوں نہیں چلائی جا سکتی شاید کارکنوں کو قربانی کے گوشت سے توانا اور طاقتور بنا کر تحریک میں زور اور جان ڈالنے کا ارادہ ہے تحریک چلے گی جسے ان کی طرف سے پر امن کہا جا رہا ہے تحریکوں میں کارکن کب پر امن رہتے ہیں۔حکومت نے اگر اٹھانا ہے گرفتار کرنا ہے تو پھر کارکن اور لیڈر پرامن رہیں نہ رہیں اٹھا لیے جائیں گے ۔کارکن تو اب بھی مظاہروں کے لیے دستیاب ہیں مگر لیڈر مصروف ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں شیڈو کیبنٹ بن رہی ہے گویا پنجاب حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھی جائے گی۔ مرکز اور دوسرے صوبوں میں سب ٹھیک چل رہا ہے؟

اس لیے وہاں شیڈو کیبنٹ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی .تحریک چلے گی لیڈر کارکن پکڑے جائیں گے جیلوں میں ڈالے جائیں گے ان کا جوش بڑھانے کے لیے عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولتوں کی فہرست ان کے سامنے رکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔ ایکسرسائز کا سامان واک کی جگہ ایئر کولر کچن بیڈ گدا کرسی کتابیں اور بھی کافی کچھ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ کپڑے استری کرنے کے لیے فرائی پین نظر نہیں آیا ۔کارکنوں کو اس کی ضرورت بھی شاید نہیں ہوگی ۔باقی سہولتیں اور  سامان  جودستیاب ہے ٹھاٹھ باٹھ کیلئے وہی کافی ہے۔

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا بڑا اپ سیٹ۔ امریکہ نے پاکستان کو سپر اوور میں ہرا دیا۔

پاکستانی ٹیم  کسی ایری  غیری ٹیم سے نہیں ہاری،سپر پاور سے ہاری ہے۔ وہاں تک تو چین روس جرمنی جاپان پہنچ بھی نہیں سکے۔ہماری ٹیم وہاں جا کر کڑک چائے تلاش کر رہی ہے ،بل فائٹنگ دیکھ رہی ہے سیر سپاٹے جاری ہیں۔ یہ سارا کچھ بہتر کارکردگی کے پیچھے اوجھل رہتا ہے لیکن جب کارکردگی اپ سیٹ والی ہو تو معمولی خامیاں کوتاہیاں بھی بلنڈر نظر آنے لگتی ہیں۔ امریکی ٹیم نے ہماری ٹیم کو159 پر آؤٹ کر لیا تھا . امریکی بیٹسمین اچھا کھیلے میچ ان کے ہاتھ میں تھا لیکن  محمد عامر  کی بہترباؤلنگ کی وجہ سے پاکستانی ٹیم ایک بار پھر میچ میں لوٹ آئی۔انہوں نے بیٹھی ٹیم کو اٹھا دیا۔  

سپر اوور تک نوبت گئی تو  عامر نے ٹیم کو وہیں بٹھا دیا جہاں سے اٹھایا تھا۔سپر اوور کا بھی سن لیں۔امریکیوں نے 18 رنز بنائے ایک امریکی کھلاڑی نے 11 رنز بنائے اور دوسرے کا سکور صفر رہا باقی سات رنز وائڈ بالز کی صورت میں تحفہ۔۔۔ سعودی عرب کی طرف سے پاکستانی ٹیم کو شاہی حج کرانے کا اعلان کیا گیا ہے بشرطیکہ ٹیم یہ کپ جیت جائے امریکیوں  نے گرین پاسپورٹ کی جھلکی تو نہیں کرادی تھی؟۔کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستانی ٹیم خیر سگالی کے جذبے کے تحت اور اعتماد سازی اقدام کے لیے جان بوجھ کر ہاری ہے۔ ویسے بھی پاکستان میں امریکی سفیر ڈولڈ بلوم اس میچ میں مہمان خصوصی تھے۔ وہ ہمارا کتنا خیال رکھتے ہیں۔

انہوں نے ہمارے کہنے پر امریکہ میں ورلڈ کپ کروا دیا۔آنکھ کی حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔اگر ان کے ملک میں ان سے جیت جاتے تو آفیشلزشرمسار شرمسار سے پھرتے۔جہاں تک اعتماد سازی اور خیر سگالی کی بات ہے ،پاکستان ایک مرتبہ بنگلہ دیش سے دوسری مرتبہ افغانستان سے ایسے جذبے کے تحت ہارا تھا ۔ اس کے بعد یہی دو ٹیمیں پاکستان کے آج تک گلے پڑتی آ رہی ہیں۔یہ ٹیمیں پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے میدان میں اترتی ہیں تو لگتا ہے کہ فوج  محاذ جنگ پر آگئی ہے ۔امریکی ٹیم نئی ضرور ہے مگر ماٹھی اور ماڑی نہیں ہے۔ ہماری ٹیم نے شاید نو آموز سمجھ کر سیریس نہیں لیا۔جس نے بھی حریف کو سَوکھا لیا اس پر اوکھا وقت ہی آیا ۔ اب بھی میدان کھلا ہے پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ جیت کر اس اپ سیٹ اور اگلےاپ سیٹوں کےدھونے دھو سکتی ہے۔اس اپ سیٹ کے  دعاؤں سے اثرات  زائل ہو سکتے ہیں کہ بھارت مالدیب سے ہار جائے مگر مالدیب کی ٹیم تو ٹورنامنٹ میں حصہ ہی نہیں لے رہی۔

عظیم خوشخبری

نام،محمد دین،عمر،75سال،رنگ،گندی،قد5فٹ2انچ،سرپربال ابھی کچھ کچھ باقی ہیں،یعنی کہ مکمل گنجے نہیں ہوئے،آئرش کیپ پہنتے ہیں،شلوارقمیض ہی ان کا پسندیدہ لباس ہے،قمیض زیادہ تران کا دوجیبوں والا ہی ہوتا ہے،ہلکی سی داڑھی بھی رکھی ہوئی،مکمل صحت مند،کوئی بیماری ان کے قریب سے بھی نہیں گزری،پیدل بہت زیادہ چلتے ہیں،دلیل سے بات کرتے ہیں،اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے،دوسروں کی عزت کرنا فرض سمجھتے ہیں،

مایوس نہیں ہوتے نہ ہی کبھی انہوں نے مایوسی والی بات کی،ہر بات پر رونا دھونا انہیں نہیں آتا،دل کے سخی ہیں،آپ کسی ہوٹل میں اکٹھے کھانا کھالیں،انکی کوشش ہوتی ہے بل وہ ادا کریں،دفترمیں اگر وہ بسکٹ کا ایک پیکٹ لے آئیں،اکیلے نہیں کھاتے،تقسیم کردیتے ہیں،اگر انکے بیٹھے کوئی دوسراشخص دفترآئے انہیں شکل سے پہچان جاتے ہیں کہ اسے پیاس لگی ہے،فوری طورپر کولر سے پانی بھر کر گلاس پیش کرتے ہیں،صحافی ہیں،مصنف ہیں،زیادہ تر بے روزگار ہی رہتے ہیں،کیونکہ انہیں سینئر کااحترام کرنا آتا ہے خوشامد کرنا نہیں،غلط بات کو دوسرے کے منہ پرہی غلط کہہ دیتے ہیں،کسی کے ناراض یا خوش ہونے کی پروا نہیں کرتے۔ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ ملک میں چلنی والی مختلف تحاریک میں گزرا ہے،بائیں بازوسے تعلق رکھتے ہیں،یونین رہنماؤں کے ساتھ کئی ممالک کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔

امریکا سےجتنی زیادہ نفرت کرتے ہیں اتنی ہی روس سے محبت کرتے ہیں۔ دنیا میں ہونیوالی ہر جنگ،سازش،رجیم چینج کا الزام امریکا پر لگاتے ہیں،پاکستان میں بھی تحریک انصاف کی حکومت تبدیل ہونے کا ذمہ دار انہوں نے امریکا کو ہی ٹھہرایا تھا۔ان کا کہنا ہے امریکا نے ہی طالبان کوبنایا تھا،امریکا نے ہی مطلب نکلنے پر انہیں دہشت گرد قرار دےدیا۔ گزشتہ دنوں انہوں نے مجھےویب سائٹ ’’ sott.net‘‘ پر کاﺅنٹر کرنٹس سے تعلق رکھنے والے تحقیق کار جیمز اے لوکس کی رپورٹ بھیجی۔ رپورٹ  میں ان کی تحقیق کے مطابق امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے سے لے کر اب تک دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں تقریباً دو سے تین کروڑ لوگوں کا خون بہایا ہے۔۔۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں دنیا کے 37 ممالک میں امریکا کے جنگی جرائم سے پردہ اٹھایا ہے اور تفصیلی وجوہات بھی بیان کی ہیں کہ ان ممالک میں کروڑوں لوگوں کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکا کس طرح سے ہے۔ جیمزلوکس کے مطابق امریکا نے کوریا اورویتنام کی جنگوں اور عراق پرمسلط کی گئی دو جنگوں کے دوران تقریباً ایک سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو ہلاک کیا۔ بعدازاں افغانستان، انگولا، کانگو، مشرقی تیمور، گوئٹے مالا، انڈونیشیا، سوڈان اور پاکستان میں بھی امریکا کی طرف سے لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان ممالک میں امریکی بربریت کا نشانہ بننے والوں کی کل تعداد 90 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ کے درمیان بتائی گئی ہے، رپورٹ میں مصنف لکھتے ہیں کہ 70 سال کے دوران دو سے تین کروڑ لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ اسی عرصے کے دوران امریکی تباہ کاریوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد مرنے والوں کی نسبت تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کو حکومت نے اپنے اصل کردار سے بے خبر رکھا ہے اور امریکا کے عوام یہ نہیں جانتے کہ ان کے ہاں تو ایک نائن الیون ہوا تھا، لیکن امریکا دنیا بھر میں بے شمار نائن الیون کرچکا ہے۔بابا جی پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیوں میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی کیخلاف ہیں،کہتے ہیں منصورہ امریکی ڈالرزسے تعمیر ہوا تھا،یہاں تک کہہ دیتے ہیں ،جاؤ،کھدائی کرکے دیکھ لو،منصورہ کی بنیادوں میں اب بھی امریکی ڈالرزمل جائیں گے،پیپلز پارٹی کو پسندکرتے ہیں،صرف ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر تک،زرداری والی پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں،انکا موقف ہے زرداری نے نہ صرف بھٹو خاندان کی جائیدادوں  پر بلکہ پارٹی پر بھی قبضہ کیا،اوربھٹو کی پارٹی کو ختم کردیا،اب اس سیاسی پارٹی کو پیپلز پارٹی نہیں،زرداری پارٹی کہناچاہیے۔شریف خاندان کو بھی بالکل پسندنہیں کرتے،انکے بارے ان کی سوچ ہے،کہتے ہیں انہیں کوئی لیڈر نہ کہا کرے،یہ تو سیاستدان بھی نہیں ہیں،تاجرہیں۔تاجر کا کیا کام ہوتا ہے۔۔۔؟

 بس منافع کمانا،جیسے بھی کمایا جائے،انہوں نےسیاست کو کاروبار بنایا ہے۔۔۔عمران خان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں،جب سے عمران خان نے امریکا کیلئے سخت رویہ اپنایا ہے۔۔۔دنیا میں اس وقت ان کا پسندیدہ لیڈر روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور  دوسرے نمبرپر عمران خان ہے۔۔۔جب بھی ہماری ملاقات ہوتی ہے،میں ان کا حال چال پوچھنےکے بعد  کہتا ہوں۔۔۔اورسناؤ۔۔۔؟ میرے اس سوال کو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ کیا پوچھ رہاہوں ۔۔۔؟ سوال یہ ہوتا ہے کہ کہیں نوکری ملی ۔۔۔؟ کیونکہ وہ آجکل چار،پانچ ماہ سے بے روزگار ہیں۔۔۔کافی دن ہوگئے ان سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی،کل وہاں جانا ہوا،جس مقام پر ہماری ملاقات ہوتی ہے۔۔۔دور سے ہی مجھےدیکھ کر کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے،یوں لگا جیسے میرا شدت سے انتظارکررہے تھے،ان کے چہرے پر ڈھیر ساری خوشیوں کے اثرات تھے،جونہی میں قریب پہنچا،انہوں نے اپنے دونوں بازوپھیلائے اور یوں مجھ سےلپٹ گئے جیسے کسی باپ کو کئی سالوں سے لاپتہ اکلوتا بیٹا مل گیا ہو۔۔۔کہنے لگے،کئی دنوں سے  آپ سے ملنے کو د ل کررہا تھا، آپکو بہت بڑی خوشخبری سنانا تھی۔۔۔

خوشخبری کا سن کر میرے چہرے پر بھی خوشی کے اثارآئے۔۔۔میں سمجھاکہیں نوکری مل گئی ہوگی۔۔۔میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئے،کرسیوں پر بیٹھ گئے۔۔۔انہوں نے جیب سے پیکٹ نکالا۔۔۔سگریٹ  سلگایا۔۔۔دھواں فضا میں چھوڑا ۔۔۔۔ اورکہنے لگے،سناؤں خوشخبری۔۔۔؟سناؤ بھئی،کیوں سسپنس میں ڈال رہے ہو۔۔۔ان کے چہرے پرایسے تاثرات تھے جیسے کوئی ملک فتح کرنے کے بعدکسی فاتح کےچہرے پر ہوتے ہیں۔۔۔ بولے۔۔۔بیٹے کوامریکی سفارتخانے میں ڈائریکٹر کی نوکری مل گئی ہے۔